وزیراعظم شہباز شریف نے عید الفطر کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی سمری مسترد کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود وہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے حق میں نہیں ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 72 ڈالر سے بڑھ کر 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 76 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 177 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 127 روپے اور 252 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ نہ کرنے کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ اور بچتوں سے 69 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بوجھ اٹھانے کے لیے حکومتی اخراجات میں کٹوتیاں کی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے سے عوام کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور موجودہ حالات ایک طوفانی مہنگائی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے قوم کے صبر اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں یکجہتی اور باہمی تعاون ہی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
تاہم وزیراعظم نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال دیرپا نہیں ہے اور عالمی بحران کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ وزارتیں ایک ایسا شفاف نظام وضع کریں جس کے تحت ریلیف صرف مستحق اور ضرورت مند طبقے تک پہنچایا جا سکے، کیونکہ موجودہ سبسڈی کا فائدہ صاحب ثروت افراد کو بھی ہو رہا ہے جو کہ غیر منصفانہ ہے۔
