-Advertisement-

کراچی: گل پلازہ میں دو ماہ بعد دوبارہ آتشزدگی، امدادی کارروائیاں جاری

تازہ ترین

کیوبا میں قومی گرڈ فیل ہونے کے بعد بجلی کی بحالی کا عمل شروع

کیوبا میں قومی سطح پر بجلی کا نظام درہم برہم ہونے کے بعد اتوار کے روز بحالی کا عمل...
-Advertisement-

کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ کے تہہ خانے میں اتوار کے روز ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی۔ یہ افسوسناک واقعہ اسی مقام پر دو ماہ قبل پیش آنے والے اس تباہ کن آتشزدگی کے واقعے کے بعد پیش آیا ہے جس میں ستر سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے کراچی فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں اور ایک واٹر باؤزر موقع پر پہنچائے گئے جبکہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے مزید گاڑیاں بھی طلب کر لی گئیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ متعلقہ حکام اور امدادی ٹیموں کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور صورتحال کو جلد مکمل طور پر قابو میں کر لیا جائے گا۔

ادھر ایکٹنگ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ عامر فضل اویسی نے بتایا کہ آگ کے ستر فیصد حصے پر قابو پایا جا چکا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ منشیات کے عادی افراد کی جانب سے کی گئی حرکت ہو سکتی ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر متعدد ایسے افراد کو عمارت سے پایا جو مبینہ طور پر تاریں اور دیگر سامان چوری کرنے کی غرض سے وہاں داخل ہوئے تھے۔

ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایک خصوصی ٹیم تہہ خانے میں آگ کے منبع کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے کسی بھی سازش کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آگ منشیات کے عادی افراد کی جانب سے تانبا جلانے کے دوران لگی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے عمارت سے تین مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری کے وسط میں اسی پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں اناسی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سندھ حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وہ سانحہ مصنوعی پھولوں کی دکان پر ماچس کی تیلی جلنے سے پیش آیا تھا۔ رپورٹ میں انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی غفلت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسے برسوں کی لاپرواہی اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -