کراچی کے گل پلازہ میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ عمارت کے ایک دکان سے دھواں اٹھتا دیکھ کر فائر بریگیڈ کی پانچ گاڑیوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق آگ عمارت کے تہہ خانے میں گیٹ نمبر ایک کے قریب واقع ایک دکان میں لگی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اسماء بتول نے میڈیا کو بتایا کہ عمارت پہلے ہی ایک حادثے کے بعد سیل کی جا چکی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ آگ تہہ خانے میں لگی ہے اور ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمارت کے اندر سے ایک نشے کے عادی شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مشتبہ شخص چوری کی نیت سے عمارت میں داخل ہوا تھا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ اسی کی حرکات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
واٹر کارپوریشن کے حکام کے مطابق فائر اینڈ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے مدد کی درخواست پر نیپا اور صفورا ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور پانی کے ٹینکرز جائے وقوعہ پر روانہ کر دیے گئے ہیں جبکہ سخی حسن ہائیڈرنٹ پر بھی ٹینکرز کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری کو گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ تین روز تک جاری رہی تھی جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ حکام تاحال نقصان کی نوعیت کا تعین کر رہے ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس تازہ واقعے میں کتنی دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔
