کراچی میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 26 مارچ کو دی جانے والی ہڑتال کی کال مؤخر کر دی ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبد السمیع خان کے مطابق یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
عبد السمیع خان کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ایسے میں ہڑتال سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہڑتال کی اگلی تاریخ کے تعین سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ملکی اور عالمی حالات انتہائی غیر یقینی ہیں جس کے باعث مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 13 مارچ کو حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا کہ 26 مارچ تک پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن کو 2 اعشاریہ 59 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے۔ یہ مطالبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے سے قبل ڈیلرز مارجن بڑھانے کی سفارش کی تھی، تاہم وزیر اعظم نے اس پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود ڈیلرز کا مارجن سابقہ سطح پر ہی برقرار ہے۔
عبد السمیع خان نے واضح کیا کہ فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کا کوئی شدید بحران پیدا نہیں ہوا کیونکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں طلب کے مطابق ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔
حکومت کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے موبائل ایپ پر مبنی کوٹہ سسٹم کے حوالے سے زیر گردش خبروں پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔
