برطانیہ کے ایوانِ بالا ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی قید اور ان کی صحت کی صورتحال پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر 190 ملین پاؤنڈ کے بدعنوانی کیس سمیت نو مئی کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
بحث کا آغاز کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی بیرونس الیگزینڈر آف کلیوڈن نے کہا کہ عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت، جیل میں سہولیات کے فقدان، طبی امداد تک رسائی نہ ہونے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں پر پابندی کے باعث یہ معاملہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپنے والد کی فوری رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ نومبر 2022 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد سے اپنے والد سے نہیں مل سکے، جبکہ رواں برس جنوری میں ویزوں کے لیے درخواستیں دینے کے باوجود انہیں تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم عید کے روز عمران خان کو جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تقریباً 25 سے 30 منٹ تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں عمران خان کے بیٹوں نے ان کی خیریت دریافت کی، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے عید کے موقع پر بات ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔
گزشتہ ہفتے جمائما گولڈ سمتھ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے بیٹوں کو والد سے ملاقات کی اجازت دیں۔ اس پر وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں جمائما نے کہا کہ حکومت ویزے جاری کرنے سے گریز کر رہی ہے تاکہ ان کے بیٹوں کو پاکستان آمد پر ممکنہ گرفتاری کی صورت میں برطانوی تحفظ سے محروم رکھا جا سکے۔
