-Advertisement-

وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم میں بلدیاتی ترامیم پر نظرثانی پر اتفاق

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ‘مایوس کن’ معاہدے کی کوششوں سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے بے تاب ہونے کی...
-Advertisement-

وزیر اعظم شہباز شریف اور متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ 30 سے 35 منٹ تک جاری رہنے والی اس نشست میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے آئینی ترامیم کا مسودہ دوبارہ تیار کیا جائے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان ترامیم کی منظوری کے لیے باہمی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا اور ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم کے وفد نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے دفعہ 140 اے کو 28 ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنایا جائے۔ وفد نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ماضی میں 27 ویں ترمیم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث مقامی حکومتوں کے اختیارات کو آئینی تحفظ نہیں مل سکا تھا، لہذا اب اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ نہال ہاشمی اس عمل کی سربراہی کریں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ذرائع کے مطابق معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایم کیو ایم کا وفد اگلے ہفتے اسلام آباد میں وزیر اعظم سے دوبارہ ملاقات کرے گا جس میں مزید تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -