-Advertisement-

ایم کیو ایم پاکستان اور وزیراعظم کی ملاقات، اسحاق ڈار کو اختلافات ختم کرنے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ‘مایوس کن’ معاہدے کی کوششوں سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے بے تاب ہونے کی...
-Advertisement-

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور اختیارات کی منتقلی کے لیے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا مطالبہ پیش کر دیا ہے۔ یہ تجویز کراچی میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایم کیو ایم کے وفد نے پیش کی۔ پارٹی قیادت نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کے تحت بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئندہ ہفتے دوبارہ مشاورت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ترمیم کے خدوخال کو حتمی شکل دی جا سکے۔ وفاقی حکومت نے اس معاملے پر تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا عندیہ دیا ہے۔

ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کراچی ترقیاتی پیکیج پر کام تیز کرنے کا مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کو ہٹانے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے قبل پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وزیراعظم نے اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا تاہم ہدایت کی کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم قیادت کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھیں۔

وفاقی حکومت نے مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی میں رانا ثناء اللہ، عطا اللہ تارڑ اور احسن اقبال شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایات کے تحت کام کرے گی اور دونوں جماعتوں کے درمیان کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کراچی اور سندھ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج کو کم کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت آئینی اور قانونی معاملات وزارت قانون کے ذریعے ایم کیو ایم سے مشاورت کے بعد طے کیے جائیں گے۔ وفاقی وزراء جلد کراچی کا دورہ کریں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ شہری سندھ کی ترقی کے لیے ایک بااختیار بلدیاتی نظام کا قیام ناگزیر ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -