اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے 31 مارچ کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق کیس کی سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ کرے گا۔
عدالت نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر درخواست پر بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلاء سے جواب طلب کر رکھا ہے۔ نیب نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو دونوں ملزمان کو سزا سنائی تھی۔
دوسری جانب برطانیہ کے ایوانِ لارڈز میں بانی پی ٹی آئی کی قید اور ان کی صحت کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ لیبر پارٹی کی رکن بیرونس الیگزینڈر آف کلیوڈن نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی بگڑتی ہوئی صحت، طبی سہولیات کے فقدان اور خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیرونس الیگزینڈر کا کہنا تھا کہ یہ بحث کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قانونی نظام کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادگان سلیمان خان اور قاسم خان کو گزشتہ سال دسمبر سے اپنے والد سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ وہ برطانوی شہری ہیں اور انہیں اپنے والد سے ملاقات کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان پر 9 مئی 2023 کے واقعات کے تناظر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
