پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق دائر درخواستوں پر صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلاء، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل عثمان خیل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
چترال کی سڑکوں کے حوالے سے سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سڑکیں انتہائی مخدوش حالت میں ہیں جس کی وجہ سے آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ این ایچ اے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مالی مشکلات کے باعث حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی ہے اور چترال کی سڑکوں پر پولیس تعینات نہیں کی گئی۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ اپنے فرائض کا احساس کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ آج کل جس کے پاس اسلحہ ہے وہ مافیا بن گیا ہے۔ عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کے لیے جدید اسلحے کی خریداری کی خاطر اکیس ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور روزانہ پانچ سے چھ پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے دعویٰ کیا کہ ماضی کی نسبت حالات میں بہتری آ رہی ہے، تاہم چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ این ایچ اے نے عدالتی احکامات کے باوجود شام پانچ بجے کے بعد سڑکوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی عدم موجودگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ عوام کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام سڑکوں بالخصوص جنوبی اضلاع میں پولیس کی چوبیس گھنٹے موجودگی یقینی بنائی جائے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں تمام زیر التواء مسائل کے حل کے لیے اجلاس بلانے کا حکم دیا۔ انہوں نے ٹریفک کے بہتر انتظام اور عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد پر زور دیا۔ چیف جسٹس نے سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پولیس تک پہنچنے سے پہلے دہشت گردوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے پولیس کے لیے فنڈز مقررہ وقت سے پہلے جاری کر دیے ہیں۔
