-Advertisement-

وزیراعظم کی ارتھ آور میں بھرپور شرکت اور ماحولیاتی ذمہ داری کے فروغ کی اپیل

تازہ ترین

مغربی ہواؤں کا سلسلہ: ملک بھر میں 31 مارچ تک بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی

مغربی ہواؤں کا سلسلہ پاکستان میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں آج سے 31 مارچ تک...
-Advertisement-

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اٹھائیس مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے تک غیر ضروری برقی آلات بند کرکے ارتھ آور میں بھرپور شرکت کریں۔ یہ علامتی اقدام ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ارتھ آور محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ یہ دنیا کو درپیش ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلانے کا نام ہے۔ اس سال کا مرکزی خیال زمین کے لیے ایک گھنٹہ وقف کرنا ہے جس کا مقصد توانائی کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعور کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود ہمارا ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے دوچار ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور شدید موسمی حالات ہماری خوراک، پانی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اس حکمت عملی میں زراعت اور آبی انتظام میں اصلاحات، قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، گرین ٹیکنالوجی کا فروغ اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام، لیونگ انڈس انیشی ایٹو اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے ملکی ماحولیات کو بہتر بنانے کی ہماری سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جدید ابتدائی انتباہی نظام کی تنصیب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیراعظم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ارتھ آور کے پیغام کو محض ایک دن تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی قومی عادت بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی اجتماعی کوششیں ہی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -