پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینٹرل کنٹریکٹ کی شرائط کی مبینہ خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ نوٹس تادیبی کارروائی کے ضوابط کے تحت دیا گیا ہے اور قومی کرکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنے جواب جمع کرائیں۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد ہی مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ بورڈ پیشہ ورانہ معیارات، معاہدوں کی پاسداری اور کھیل کی ساکھ پر سمجھوتہ کرنے کا روادار نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو نسیم شاہ کا سینٹرل کنٹریکٹ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ فاسٹ بولر اس وقت پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کی سی کیٹیگری میں شامل ہیں۔
یہ تنازع تب پیدا ہوا جب نسیم شاہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس سے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دورہ قذافی اسٹیڈیم کے حوالے سے ایک تنقیدی پوسٹ کی گئی۔ اس پوسٹ میں وزیر اعلیٰ کو ملنے والے پروٹوکول پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
بعد ازاں مذکورہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا اور نسیم شاہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا جسے اب بحال کر لیا گیا ہے۔
پی ایس ایل الیون میں راولپنڈی کی نمائندگی کرنے والے نسیم شاہ کے معاملے پر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ میدان کے اندر اور باہر بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کریں گے۔
