مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں فضائی سفر مہنگا ہو گیا ہے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن پی آئی اے نے ایندھن کے نرخوں میں اضافے کا بوجھ مسافروں پر منتقل کرتے ہوئے دس سے ایک سو ڈالر تک کے فیول سرچارجز عائد کر دیے ہیں۔
نئی قیمتوں کے تحت ملکی پروازوں پر دس ڈالر کا اضافی سرچارج لاگو کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی روٹس پر اضافے کی شرح زیادہ ہے جس کے مطابق کینیڈا کے لیے سو ڈالر، برطانیہ کے لیے پچھتر ڈالر جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی پروازوں کے لیے پچاس ڈالر کا اضافی سرچارج مقرر کیا گیا ہے۔
نجی ایئر لائنز نے بھی اس رجحان کی پیروی کرتے ہوئے فیول سرچارجز کا نفاذ کر دیا ہے، جن کی شرح پندرہ سے ایک سو پچاس ڈالر کے درمیان رکھی گئی ہے۔ اس اقدام سے مسافروں پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ ان سرچارجز کا نفاذ اکیس مارچ کو کیا گیا تھا اور تب سے اب تک کرایوں میں کوئی مزید اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی سطح پر ایوی ایشن کا شعبہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔
