نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت روزانہ دو پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا یہ تعمیری اقدام قابل تعریف ہے جو خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو مشترکہ کاوشوں کو تقویت دے گا۔
اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے تمام تر حملوں اور مخاصمت کے خاتمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی اعتماد سازی کے اقدامات اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد طریقہ کار ہیں۔
