کراچی پولیس نے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی طالبات کو لوٹنے والے تین رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے لوٹا گیا سامان اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
واقعہ چھبیس مارچ کی صبح بہادر آباد کے علاقے میں پیش آیا تھا جس نے طالبات کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق ایسٹ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے کیس کو صرف بہتر گھنٹوں میں حل کیا ہے۔
واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں ملزمان ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے اور طالبات کی وین کے سامنے رک گئے۔ صبح آٹھ بج کر بارہ منٹ پر دو ملزمان نے وین میں داخل ہو کر ایک منٹ سے کم وقت میں لوٹ مار کی اور اپنے تیسرے ساتھی کے ساتھ فرار ہو گئے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا تعاقب کیا جو تین مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے لائنز ایریا پہنچے تھے۔ ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اور ہیومن انٹیلیجنس کے ذریعے ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔
پولیس نے حکمت عملی کے تحت اتوار کی صبح ایک ساتھ چھاپے مار کر تینوں ملزمان کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والوں کی شناخت سمیر، شہاب اور امجد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے طالبات کے موبائل فونز، کالج بیگز، کتب، تین پستول اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان کراچی کے رہائشی ہیں اور ماضی میں بھی سٹریٹ کرائمز کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ ملزمان نے ڈکیتی کے دوران طالبات سے تضحیک آمیز انداز میں السلام علیکم کہتے ہوئے سامان حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بھی ایس ایس پی ایسٹ اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
