حیات ری ہیب کلینک کے سی ای او اور کلینیکل ماہر نفسیات ڈاکٹر شمشیر حیات نے انتباہ کیا ہے کہ خواتین کے حقوق، ناموس کے نام پر قتل اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے مسائل پر عوامی شعور میں اضافے کے باوجود خواتین میں منشیات کی لت کا بحران ایک خاموش اور سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
ڈاکٹر شمشیر حیات کے مطابق اس مسئلے کو سماجی بدنامی اور شرم کے پردوں میں چھپا دیا گیا ہے، جس کے باعث متاثرہ خواتین خاموشی سے اذیت سہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان والے معاشرتی تنقید کے خوف سے مدد حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں علاج کی فراہمی کے بجائے خفیہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ٹیلی فونک مشوروں پر اکتفا کیا جا رہا ہے، جو کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔
ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ خواتین کو علاج کے حصول کے دوران اپنے خاندان اور معاشرے کی جانب سے شدید ردعمل کا خوف رہتا ہے۔ انہیں تنہائی، حقارت یا شوہر، بچوں اور والدین کی جانب سے حمایت ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے، جو انہیں بروقت طبی امداد سے دور رکھتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مردوں کے برعکس خواتین کے لیے علاج کے مواقع تک رسائی انتہائی محدود ہے اور صنف کے لحاظ سے حساس امدادی نظام کا فقدان اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
ڈاکٹر شمشیر حیات نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات کی بڑی تعداد ہم عصروں کے دباؤ، نظر انداز کیے جانے یا تعلیمی تناؤ کے باعث منشیات کی جانب راغب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ منشیات کی لت کا تعلق اکثر ڈپریشن، بے چینی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسے گہرے نفسیاتی مسائل سے ہوتا ہے، جس کے لیے مکمل بحالی، ڈی ٹاکس، تھراپی اور جذباتی نگہداشت پر مبنی مربوط علاج ناگزیر ہے۔
