-Advertisement-

دادو ٹرپل مرڈر کیس: عدالت کا تمام ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین

ایف پی سی سی آئی کا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کا خیرمقدم

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت پاکستان اور آئی ایم...
-Advertisement-

دادو کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے خاندان کے تین افراد کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ساڑھے چار سو سماعتوں کے بعد سنایا جانے والا یہ فیصلہ انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ ایک روز قبل محفوظ کیا تھا۔ اس ہائی پروفائل کیس میں ام رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو قتل کیا گیا تھا۔

فیصلے کے موقع پر دادو میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری بشمول 6 ڈی ایس پی، 33 ایس ایچ او اور 700 سے زائد اہلکار عدالتی حدود اور مرکزی شاہراہوں پر تعینات کیے گئے تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع رہا۔ مدعی پرویز چانڈیو اور ام رباب چانڈیو کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت پہنچایا گیا۔

یہ تہرے قتل کا واقعہ 17 جنوری 2018 کو مہر میں پیش آیا تھا۔ اس مقدمے میں نامزد ملزمان ذوالفقار، علی گوہر، مرتضیٰ اور سکندر چانڈیو جیل میں قید تھے، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی سردار احمد چانڈیو، برہان خان چانڈیو، ستار چانڈیو اور سابق ایس ایچ او کریم چانڈیو ضمانت پر تھے۔

ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ کے جج حسن علی کلواڑ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کی بریت کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ ام رباب چانڈیو اس وقت خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے اپنے خاندان کے قتل کے مقدمے کے اندراج میں تاخیر پر دادو کی مقامی عدالت میں ننگے پاؤں پیش ہو کر احتجاج کیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمے کو تین ماہ کے اندر نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -