-Advertisement-

صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کے ثالثی کردار پر اہم اجلاس آج ہوگا

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا ایندھن بحران کے اثرات سے نمٹنے اور غریب طبقے کو ریلیف دینے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کمزور طبقے کو تنہا نہیں چھوڑیں گے...
-Advertisement-

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، عسکری حکام اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی اور خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، سپلائی چین کی صورتحال اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ اور ہنگامی اقدامات پر غور کیا جائے گا، جس کے لیے صوبائی حکومتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو سبسڈی دینے سے متعلق اہم فیصلوں کا بھی امکان ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے شرکاء کو اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔ گزشتہ روز منعقدہ اس اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے مربوط کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔ اس مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجاویز پر ابتدائی گفتگو کی گئی تھی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان آئندہ چند دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر وفاقی حکومت نے توانائی کی کھپت کم کرنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن اور کفایت شعاری کے سخت اقدامات کا منصوبہ حتمی شکل دے دیا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جس سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت پر شدید دباؤ ہے۔ پیٹرول کی قیمت تین سو اکیس روپے اور ڈیزل کی قیمت تین سو پینتیس روپے فی لیٹر سے تجاوز کر جانے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکومتی حکمت عملی کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایندھن اور بجلی کی طلب میں نمایاں کمی لانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -