اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سزا معطلی کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دو متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ نیب کا موقف ہے کہ مرکزی اپیلوں پر نوٹس جاری کیے بغیر سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت نہیں ہو سکتی۔ پراسیکیوٹر نے دفاعی وکلاء کو مرکزی اپیلوں پر دلائل شروع کرنے کی تجویز دی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے نیب کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2025 میں سنائی گئی سزا کو 14 ماہ گزر چکے ہیں اور استغاثہ مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشری بی بی ٹرائل کے دوران ضمانت پر تھیں اور ان کی صحت بھی تشویشناک ہے، لہذا وہ فی الحال مرکزی اپیلوں کے بجائے سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی چاہتے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ہفتے میں دو دن سماعت مقرر کی جائے تو کیا دلائل دیے جا سکتے ہیں۔ اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ ماہ سے اپنے موکلین سے ملاقات نہیں کر سکے جس کی وجہ سے انہیں اپیل پر دلائل دینے کے لیے ہدایات درکار ہیں۔
دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ سائفر کیس میں دلائل مکمل ہونے میں تین ماہ لگے تھے، اس لیے اس کیس میں بھی وقت درکار ہوگا اور سزا معطلی کی درخواستوں کو پہلے سنا جانا چاہیے۔ عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت تک اپنے موکلین سے ہدایات حاصل کر لیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے۔
