-Advertisement-

چیف جسٹس کا عدالتی اصلاحات کا جائزہ، کیس مینجمنٹ میں بہتری پر اطمینان کا اظہار

تازہ ترین

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے منگل کے روز جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان...
-Advertisement-

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں جوڈیشل ریفارمز پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے دسویں انٹرایکٹو سیشن کی صدارت کی۔ اجلاس میں ریفارم ایکشن پلان کے تحت کیسز کے جلد تصفیے، عدالتی عمل کی ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے امور زیر غور آئے۔

اجلاس میں وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ، سپریم کورٹ کے رجسٹرار، لاء اینڈ جسٹس کمیشن، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے حکام اور سپریم کورٹ کے شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔ حکام نے کیس مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور آئی ٹی سسٹمز کو مربوط کرنے پر بریفنگ دی۔

چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 5 ہزار 383 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 3 ہزار 600 نئے کیسز دائر ہوئے، جس سے زیر التوا مقدمات کی تعداد 34 ہزار 83 رہ گئی ہے۔ چیف جسٹس نے مقدمات کے تصفیے کی شرح میں اضافے کو سراہتے ہوئے اسے کیس مینجمنٹ اور بنچوں کی موثر تشکیل کا نتیجہ قرار دیا۔

سزائے موت کے زیر التوا مقدمات کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اکتوبر 2024 میں ان کی تعداد 384 تھی جو اب کم ہو کر 60 رہ گئی ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ تمام باقی ماندہ اپیلیں اگلے 30 دنوں میں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی اور 2018 تک کے پرانے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

وفاقی محتسب نے کارکردگی کی جانچ کے لیے کی پرفارمنس انڈیکیٹرز اور ڈسبرسمنٹ لنکڈ انڈیکیٹرز متعارف کرانے پر زور دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فائل ٹریکنگ کے لیے بارکوڈ سسٹم پر کام جاری ہے جو ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے ذریعے گزشتہ تین ماہ میں 20 ہزار 800 سے زائد سروس ریکویسٹس نمٹائی گئیں۔

چیف جسٹس نے ای پیمنٹ کی سہولت کو ایک ہفتے کے اندر تمام عدالتی فیسوں تک بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور موثر انصاف کی فراہمی آئینی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں وکلاء برادری کے تعاون کو سراہا اور عدالتی عملے کی کارکردگی کی تعریف کی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -