پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل فرنچائزز کے لیے سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کرتے ہوئے ٹیم ہوٹلوں میں مہمانوں کی آمد و رفت کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق اب کسی بھی فرد سے ملاقات کے لیے 24 گھنٹے قبل مطلع کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کے قریبی رشتہ داروں بشمول والدین، بہن بھائی، شریک حیات اور بچوں کو ہی کمرے میں ملاقات کی اجازت ہوگی، جس کے لیے بھی ایک دن پہلے اطلاع دینا ضروری ہے۔ دیگر مہمانوں سے ملاقات ہوٹل میں مخصوص کردہ مقام پر ہوگی اور انہیں ٹیم فلور پر جانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
یہ اقدامات حال ہی میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور سکندر رضا کی جانب سے سکیورٹی پروٹوکولز کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس نے پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں نے بغیر اجازت غیر متعلقہ افراد کو ہوٹل کے کمرے میں بلایا۔
واقعے پر سکندر رضا نے وضاحت کی کہ مہمان ان کی درخواست پر شاہین شاہ آفریدی کے ہمراہ آئے تھے اور ان کا مقصد کسی اصول کی خلاف ورزی کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایس او پیز کے بارے میں واضح آگاہی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔
سکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ فرنچائز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں ٹورنامنٹ کے ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام فرنچائزز پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی اور آپریشنل سالمیت برقرار رکھنے کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ ٹیموں کے تحفظ کے لیے ان سخت اقدامات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
