فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان کے لیے برآمدات پر لازمی مالیاتی آلات سے عارضی استثنیٰ دینے کے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی جانب سے اٹھائے گئے اس بروقت اور تاجر دوست اقدام کو کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔
اس فیصلے کے تحت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک لیٹرز آف کریڈٹ اور بینک گارنٹیوں کی شرط میں تین ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔ عاطف اکرام شیخ کے مطابق یہ اقدام علاقائی بحری کشیدگی کے باعث درپیش چیلنجز میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نرمی پاکستان اور ایران کے درمیان 10 ارب ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کے سخت ضوابط اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بنکنگ چینلز میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے سے زمینی راستے سے تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ خلیج میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے سمندری ٹریفک میں 90 فیصد کمی کے تناظر میں یہ زمینی تجارتی راستہ ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے بتایا کہ وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے بعد زرعی مصنوعات بشمول چاول، مکئی، آلو، پیاز، ٹماٹر، پھل، گوشت، منجمد مرغی، سمندری خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی شرائط میں نرمی سے ٹرانزیکشن لاگت اور وقت میں کمی آئے گی۔
ثاقب فیاض مگون نے حکومت پر زور دیا کہ اس تین ماہ کی مہلت کے دوران بارٹر ٹریڈ کے مستقل اور پائیدار فریم ورک کو تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے سرحدی مقامات بشمول پنجگور میں جیراک کسٹم سہولت پر بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی توسیع کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ایران کا کوریڈور وسطی ایشیا تک رسائی کا مستقل اور آسان گیٹ وے بن سکے۔
ایف پی سی سی آئی نے اعادہ کیا ہے کہ وہ اس استثنیٰ کے کامیاب نفاذ کے لیے وزارت تجارت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی کے ذریعے ملکی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
