وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے مبینہ ریلیز فورس کی تشکیل کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو دس روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس ضمن میں صوبائی حکومت، پاکستان تحریک انصاف، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
درخواست گزار وکیل علی نواز کھرل کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی نجی فورس کا قیام آئین کی شق 256 کی صریح خلاف ورزی ہے جو نجی ملیشیا پر پابندی عائد کرتی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اس اقدام کو روکے کیونکہ یہ عوامی تحفظ اور امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا اس فورس کی تشکیل کے لیے صوبائی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے، جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور عوامی تحفظ کے حوالے سے اقدامات کرے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فروری میں اس ریلیز فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد پانچ اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ یہ تجویز تحریک انصاف کے اندر بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جہاں کچھ رہنما اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی فورس کا قیام عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی مثالیں ماضی کی عسکریت پسند سیاسی ونگز سے ملتی ہیں۔ پٹیشن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ آرٹیکل 17 کے تحت تنظیم سازی کی آزادی حاصل ہے، تاہم یہ حق قومی سلامتی اور عوامی امن و امان سے مشروط ہے۔
