-Advertisement-

خلیجی راستوں میں کشیدگی: پاکستانی بندرگاہیں اہم ٹرانزٹ ہب کے طور پر ابھرنے لگیں

تازہ ترین

ایران سے جلد انخلا ممکن ہے، ضرورت پڑنے پر دوبارہ واپس آ سکتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (خبر رساں ادارے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران سے جلد انخلا کرے...
-Advertisement-

خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی اور سمندری راستوں پر پیدا ہونے والے بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہیں غیر متوقع طور پر تجارتی سامان کی ترسیل کا اہم مرکز بن کر ابھری ہیں۔ مارچ کے اوائل سے کراچی کی بندرگاہوں پر ٹرانسمینٹ یعنی عارضی طور پر اتارے گئے اور دوبارہ منزل کی جانب روانہ کیے جانے والے سامان کی مقدار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 دنوں کے دوران کراچی پورٹ نے 8 ہزار 313 کنٹینرز کو سنبھالا ہے، جو کہ سال 2025 کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان کی نصف سے زائد غیر ملکی تجارت کو سنبھالنے والی اس بندرگاہ کے علاوہ پورٹ قاسم پر بھی یکم مارچ سے ریکارڈ تجارتی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔

خطے میں کشیدگی، آبنائے ہرمز میں پابندیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے سبب عمان کی صلالہ اور متحدہ عرب امارات کی جبل علی جیسی بندرگاہوں پر آپریشنز متاثر ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کے لیے ایک نئی منڈی کھلی ہے۔ پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد راجپر نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہیں علاقائی تجارت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق 75 فیصد سامان کراچی پورٹ جبکہ 25 فیصد پورٹ قاسم کے ذریعے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس غیر معمولی دباؤ کے پیش نظر کراچی پورٹ کی تاریخ میں پہلی بار عید الفطر کے روز بھی آپریشنز جاری رہے۔ محمد راجپر نے وضاحت کی کہ خلیج فارس میں انشورنس پریمیم اور ڈلیوری کے اخراجات پاکستان کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنی بندرگاہوں کو صلالہ اور جبل علی کی طرز پر مستقل علاقائی مرکز بنانے کا بہترین موقع ہے، کیونکہ فی الحال پاکستان کی بندرگاہیں اپنی 6 ملین کنٹینرز کی گنجائش کے مقابلے میں سالانہ 3.8 ملین کنٹینرز ہینڈل کر رہی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی عارضی نہیں ہوگی۔ محمد راجپر کے مطابق اگر جنگ آج ختم بھی ہو جائے تو روایتی تجارتی راستوں کی بحالی میں کم از کم تین ماہ لگیں گے، جبکہ انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات شپنگ کمپنیوں کو طویل عرصے تک پاکستان کی طرف متوجہ رکھیں گے۔

کراچی میں مقیم شپنگ کے ماہر عاصم صدیقی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس کے اثرات اگلے چار سے پانچ سال تک رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس عارضی تیزی کو پائیدار کاروبار میں بدلنے کے لیے کارکردگی اور لاگت میں توازن ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے کسٹمز کے قوانین میں کی گئی حالیہ ترامیم کو شپنگ انڈسٹری کے لیے نیک شگون قرار دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -