بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں اور ژالہ باری کے بعد زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے بھر کے چھوٹے اور بڑے ڈیم پانی سے بھر گئے ہیں۔ اس صورتحال نے کسانوں اور باغبانوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں صوبے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے شدید خشک سالی اور پانی کی قلت کا شکار تھا۔
کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، موسیٰ خیل، خضدار، مستونگ، نوشکی، چاغی، دکی، ہرنائی سمیت مکران اور نصیر آباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارشوں نے نہ صرف زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنایا ہے بلکہ مقامی ڈیموں کو بھی بھر دیا ہے۔ دیہی علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کنوؤں، روایتی کاریزوں اور ٹیوب ویلوں میں پانی کی سطح میں واضح بہتری آئی ہے۔
کسانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال گندم، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔ باغبانوں کا ماننا ہے کہ بارشوں سے سیب، انگور، خوبانی اور آڑو کے باغات کو بھرپور فائدہ پہنچے گا جبکہ چراگاہوں میں تازہ گھاس اگنے سے مال مویشی پالنے والوں کو بھی بڑی ریلیف ملے گی۔
ماہرین کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ بلوچستان میں خشک سالی کے خطرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئندہ دنوں میں بھی بارشوں کا یہ تسلسل برقرار رہا تو صوبے کے بیشتر حصوں میں زرعی صورتحال مزید مستحکم ہو جائے گی۔ مقامی آبادی نے بارشوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف پانی کے بحران کو ختم کرے گا بلکہ زرعی معیشت کو بھی نئی زندگی بخشے گا۔
