ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بلند ہو گئی ہیں، جس کے باعث لاہور سمیت دیگر شہروں میں یہ گیس 450 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 304 روپے 28 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 470 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عام صارفین کو سرکاری نرخ سے 146 روپے فی کلو تک اضافی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں روزانہ 6 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایل پی جی کی کھپت ہے، جس سے منافع خوری کا حجم وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب خوردہ فروشوں کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں ہی انہیں مہنگے داموں گیس فراہم کر رہی ہیں۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ اس نے خود ایل پی جی 443 روپے فی کلو خریدی ہے، ایسے میں 304 روپے میں فروخت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکام صرف چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ بڑے مافیاز دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔
مہنگائی کی اس لہر نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ رکشہ ڈرائیور عثمان کاشف کا کہنا ہے کہ حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اب دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ سواریوں کی کمی اور کم کرایوں کے باعث زندگی گزارنا محال ہو چکا ہے۔
