لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں شاہ محمود قریشی، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں سات مئی تک توسیع کر دی ہے۔
خصوصی عدالت کے ڈیوٹی جج نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر علیمہ خان، عظمیٰ خان اور مسرت جمشید عدالت میں پیش ہوئیں۔ جبکہ اعظم سواتی اور اسد عمر کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
عدالت نے اعظم سواتی کی علالت اور اسد عمر کی فلائٹ کے مسائل کے پیش نظر ان کی حاضری سے استثنیٰ کی استدعا منظور کر لی۔ سماعت کے دوران عدالت نے پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے اور وکلاء کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں سات مئی تک توسیع کر دی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کی اور کہا کہ عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔
علیمہ خان نے خبردار کیا کہ حکام انہیں قید کر سکتے ہیں یا نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن وہ شہادت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں پارٹی کے پچاس سے ساٹھ ہزار عہدیداران موجود ہیں جبکہ صرف راولپنڈی ڈویژن میں پندرہ سے بیس ہزار عہدیداران ہیں۔
انہوں نے منگل کے روز قریبی اضلاع سے دس ہزار عہدیداران کو اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کی اپیل کی اور واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی دباؤ ڈالے بغیر ممکن نہیں ہے۔
