پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض رواں ماہ واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیاسی قیادت نے اس قرض کی مکمل ادائیگی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے کہ آیا ابوظہبی کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر قرض رول اوور کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا یا نہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق کل رقم میں سے 450 ملین ڈالر کا قرض 1996-97 میں ایک سال کے لیے لیا گیا تھا، جسے اب 30 سال بعد آئندہ ہفتے واپس کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے ادائیگیوں کا شیڈول بھی طے کر لیا ہے جس کے تحت 11 اپریل کو 450 ملین ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر اور 23 اپریل کو مزید ایک ارب ڈالر کی واپسی کی جائے گی۔
اس سے قبل اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اور وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کی قیادت سے قرض کی مدت میں دو سال کی توسیع اور شرح سود میں کمی کی درخواست کی تھی۔ تاہم، اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان اس قرض کو اسٹیٹ بینک کے 16.4 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر سے ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرے گا، جس میں 8 اپریل کو ادا کیا جانے والا 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی شامل ہے۔ کابینہ کے وزیر کا کہنا ہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں اور حکومت ادائیگیوں کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر قرضوں کی واپسی کا عمل تیز ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 2018 میں دو ارب ڈالر کا قرض دیا تھا جو تب سے مسلسل رول اوور ہو رہا تھا، جبکہ 2023 میں مزید ایک ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا گیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف ماضی میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ دوست ممالک سے ملنے والے قرضوں پر انحصار کرنا عزتِ نفس کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ حکومت کو اس وقت برآمدات میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے جمود جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں برآمدات میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ حکومت تین سالوں میں برآمدات کو 32 ارب ڈالر سے دوگنا کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
