-Advertisement-

ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیش رفت کا موقع بال بال ضائع

تازہ ترین

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، دو افغانوں سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران آٹھ دہشت گردوں کو...
-Advertisement-

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو حال ہی میں دو مرتبہ اس وقت دھچکا لگا جب مذاکرات کے لیے طے شدہ ملاقاتیں آخری لمحات میں منسوخ ہو گئیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کو گزشتہ دس دنوں کے دوران دو مرتبہ اسلام آباد پہنچنا تھا تاکہ ایرانی حکام سے براہ راست بات چیت کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار تھا تاہم تہران نے داخلی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں بار شرکت سے معذرت کر لی۔ حکام نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن ایران کی جانب سے محتاط رویہ اپنایا گیا۔

اس سے قبل پاکستان کے اعلیٰ ترین سطح پر بھی ایران سے رابطے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کا تہران کا دورہ طے پایا تھا جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات متوقع تھی، تاہم سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایران نے اس دورے کو ممکن نہیں ہونے دیا، جس کے بعد یہ منصوبہ ملتوی کر دیا گیا۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود نہیں رہا۔ انیس مارچ کو ریاض میں ہونے والے بارہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران بھی اسلام آباد نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیے کا مسودہ پیش کیا گیا جس میں ایران کو خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، جس پر پاکستان نے سخت اعتراض کیا۔

پاکستانی حکام نے موقف اپنایا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور اسے اسرائیل کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ طویل بحث کے بعد پاکستان اس مسودے میں ترامیم کروانے میں کامیاب رہا، تاہم اس موقف پر کچھ خلیجی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان نے خطے میں کسی بھی فوجی اتحاد کا حصہ بننے سے بھی گریز کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں میری ٹائم ٹریفک کی بحالی کے لیے برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ ایسی کسی بھی سرگرمی سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، لہذا اسلام آباد اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -