حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے تاریخی مقامات، شاہراہوں اور اہم عمارتوں کے اصل نام بحال کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو اجاگر کرنا اور اسے ثقافتی ورثے سے دوبارہ مربوط کرنا ہے۔ حکام کے مطابق لاہور صدیوں سے مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے جس پر مسلم، ہندو، سکھ اور برطانوی ادوار کے گہرے اثرات موجود ہیں۔
ماضی میں سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث کئی مقامات کے نام تبدیل کر دیے گئے تھے جن میں کرشن نگر کو اسلام پورہ، دھرم پورہ کو مصطفی آباد، رام گلی کو رحمان گلی، مال روڈ کو شاہراہ قائد اعظم، موہن لال بازار کو اردو بازار، ایبٹ روڈ کو غزنوی روڈ، لاہور اسٹیڈیم کو قذافی اسٹیڈیم، گول باغ کو ناصر باغ اور منٹو پارک کو اقبال پارک کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم ان میں سے کئی نام عوامی سطح پر مکمل طور پر قبول نہیں کیے گئے۔
لاہور اتھارٹی فار ہیریٹیج ریوائیول کے سیکریٹری کامران لاشاری کا کہنا ہے کہ گلیوں اور بازاروں کے پرانے نام بحال کرنے سے تاریخی شعور بیدار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ناموں کی تبدیلی نہیں بلکہ ثقافتی شناخت کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق عوامی سطح پر اب بھی پرانے ناموں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ اور مؤرخین نے اس حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ پنجاب کے سابق ڈائریکٹر ملک مقصود احمد کا کہنا ہے کہ تاریخی ناموں کو مذہبی یا سیاسی عینک کے بجائے ثقافتی ورثے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب حسین کے مطابق دنیا بھر میں تاریخی ناموں کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور لاہور میں بھی گنگا رام ہسپتال، لکشمی چوک اور لارنس گارڈنز جیسے نام عوامی حافظے کا حصہ ہیں۔
اس حوالے سے ماہرین نے متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ہیریٹیج ریسرچ کی اسکالر ام رباب کا کہنا ہے کہ ناموں کی بحالی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔ محقق سید فیضان نقوی کے مطابق تاریخی ناموں کی واپسی نئی نسل کو ان کی تاریخ سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
دوسری جانب کچھ شہریوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ قومی شخصیات کے نام سے منسوب مقامات کے نام تبدیل کرنے سے غیر ضروری تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ حکومت نے تاحال حتمی فہرست جاری نہیں کی ہے تاہم ماہرین اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
