پاکستان نے پہلی بار ٹرانس شپمنٹ کے انتظامات کے تحت بلک اور گاڑیوں کی کارگو ہینڈلنگ کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں بدلتے ہوئے شپنگ روٹس کے تناظر میں پاکستان کو ایک اہم لاجسٹکس حب کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے باعث روایتی تجارتی راستوں میں خلل کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث شپنگ کمپنیاں متبادل بندرگاہوں کی تلاش میں ہیں، جس کے پیش نظر پاکستان نے یہ تزویراتی قدم اٹھایا ہے۔
یہ منظوری وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات پر دی گئی ہے، جس کی سربراہی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر پاکستان کی مسابقت بڑھے گی اور ملک ایک مضبوط ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر ابھرے گا۔
نئے فریم ورک کے تحت پاکستان اناج، کوئلہ اور معدنیات سمیت بلک کارگو کو ہینڈل کرے گا۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے خصوصی رول آن رول آف آپریشنز کی اجازت بھی دی گئی ہے، جس میں کاریں، ایس یو ویز اور دیگر پہیوں والی گاڑیاں شامل ہوں گی۔
حکومت نے لیس دین کنٹینر لوڈ کارگو کی ہینڈلنگ کی بھی منظوری دے دی ہے، جس سے چھوٹی کھیپوں کو یکجا اور دوبارہ تقسیم کرنے میں مدد ملے گی اور عالمی فریٹ فارورڈرز پاکستان کی جانب راغب ہوں گے۔
وزارت بحری امور کے مطابق ان اقدامات سے بندرگاہوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، زرمبادلہ حاصل ہوگا اور لاجسٹکس کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس فریم ورک کا مقصد وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت کو آسان بنانا اور خطے کے دیگر مراکز پر انحصار کم کرنا بھی ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور ضوابط کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
