دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کروائی گئی رقوم سے متعلق گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مالیاتی لین دین کو گمراہ کن اور بے بنیاد انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے متحدہ عرب امارات کا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض رواں ماہ واپس کرنے کے فیصلے کے بعد مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ رقوم دو طرفہ تجارتی معاہدوں کے تحت جمع کرائی گئی تھیں، جو پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ترجمان کے مطابق حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک کے ذریعے میچور ہونے والی رقوم کی واپسی کے عمل میں مصروف ہے۔ دفتر خارجہ نے زور دیا کہ اس معمول کے مالیاتی عمل کو کسی اور تناظر میں دیکھنا غلط اور گمراہ کن ہے۔
بیان میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون موجود ہے۔ یہ تعلقات وقت کی ہر کسوٹی پر پورا اترے ہیں اور سال بہ سال مضبوط تر ہوئے ہیں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جنہوں نے اس پائیدار دوستی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان اس شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے متحدہ عرب امارات سے قرض کی واپسی کے لیے مدت میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ حکام کے مطابق حکومت 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کرے گی۔ مجموعی طور پر پاکستان اپریل کے دوران 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کا قرض ادا کرے گا، جس میں 8 اپریل کو ادا کیا جانے والا ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ بھی شامل ہے۔ یہ ادائیگیاں مرکزی بینک کے پاس موجود 16 ارب 40 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر سے کیے جانے کا امکان ہے۔
