لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب بار کونسل کی قیادت نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ معطل شدہ صدر بابر مرتضیٰ کے مقدمات کی سماعت کے لیے کاز لسٹ میں شمولیت کا نوٹس لیا جائے۔ بار عہدیداروں نے سوال اٹھایا کہ معطلی کے باوجود ان کے مقدمات کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے۔
وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز بشمول لاہور ہائی کورٹ بار، ڈسٹرکٹ اور تحصیل بارز پنجاب بار کونسل کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات، لائسنسنگ، انرولمنٹ، نظم و ضبط اور انتخابی پٹیشنز کے معاملات پر صرف پنجاب بار کونسل کو فیصلے کا اختیار حاصل ہے اور کسی بھی بار ایسوسی ایشن کو ان امور میں خود مختار کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔
قیادت نے تین مارچ کو لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم کے خلاف نامناسب زبان کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔
پنجاب بار کونسل کے عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ 28 فروری کو ہونے والے لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں سنگین بے ضابطگیوں کے باعث کونسل نے انتخابات معطل کر دیے تھے۔ اس ضمن میں بار کے صدر اور الیکشن بورڈ کے چیئرمین کے لائسنس بھی معطل کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ اپیلوں پر سماعت جاری ہے۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار کے کچھ عہدیداروں نے کونسل کی ہدایات کو نظر انداز کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ کچھ وکلاء کے کیسز پاکستان بار کونسل کو بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ پنجاب بار کونسل کے جنرل ہاؤس کے اجلاس میں صوبہ بھر سے آئے ارکان نے وکلاء کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے۔
