-Advertisement-

پاکستان کا ٹی ٹی پی حملوں کے افغان روابط پر اقوام متحدہ کے ماہرین کے تحفظات مسترد

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی روس کے ساتھ تعاون کی پیشکش

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے...
-Advertisement-

پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے حملوں کے افغان سرزمین سے ہونے کے شواہد کو ناکافی قرار دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو واضح طور پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے حال ہی میں پاکستان اور افغانستان پر مستقل جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایسے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جن سے ثابت ہو کہ ٹی ٹی پی کے حملے افغان حکام کے زیر اثر کیے جا رہے ہیں۔ اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 35 ویں، 36 ویں، 16 ویں اور 37 ویں رپورٹس کا حوالہ دیا جو فروری 2025 سے فروری 2026 کے درمیان جاری کی گئیں۔

پاکستان نے اپنے موقف کی تائید میں سگار کی 66 ویں اور 68 ویں رپورٹس، روسی وزارت خارجہ، سی ایس ٹی او، ایس سی او اور روس، چین اور ایران کے سہ فریقی جائزے کا بھی ذکر کیا۔ ان دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے جہاں 13 ہزار سے 23 ہزار غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں، جن میں 6 ہزار سے زائد ٹی ٹی پی جنگجو شامل ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی، قیادت کی تنظیم نو اور داعش خراسان کا پھیلاؤ بھی جاری ہے۔ دستاویزات میں 600 سے زائد ایسے حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے گئے، جن میں افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا ذکر موجود ہے۔

ایک سیکیورٹی تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی ماہرین ان حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ماہرین یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستانی قیادت افغانستان جا کر حافظ گل بہادر اور مفتی نور ولی محسود جیسے دہشت گردوں کے ساتھ تصاویر بنوائے۔ تجزیہ کار نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے ماہرین خود انہی عالمی اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں جنہیں عالمی اصولوں کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پاکستان نے عالمی ماہرین سے پوچھا ہے کہ انہیں مزید کس قسم کے ثبوت درکار ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے شواہد پہلے ہی موجود ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -