-Advertisement-

وزیراعظم شہباز شریف کا صوبوں کو ایندھن پر سبسڈی کا بوجھ بانٹنے کا مطالبہ

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی روس کے ساتھ تعاون کی پیشکش

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے...
-Advertisement-

اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم سبسڈی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں موجود ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ قومی سبسڈی پیکیج کے لیے اپنے حصے کی رقوم فوری جمع کرائیں۔

وزیر اعظم نے بلوچستان حکومت کی جانب سے سبسڈی پیکیج کے لیے حصہ جمع کرانے پر وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

اس ریلیف پیکیج کے تحت کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے اور منی بسوں و ویگنوں کو چالیس ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹرکوں کو ستر ہزار، بڑے مال بردار ٹریکٹر ٹرالرز کو اسی ہزار اور ڈلیوری وینز کو پینتیس ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے ٹرانسپورٹ کا ڈیٹا وفاقی حکام کو فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ عملدرآمد کو تیز کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے اعادہ کیا کہ مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایک سو انتیس ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا ہے۔ اس میں پیٹرولیم لیوی میں اسی روپے فی لیٹر کمی، پاکستان ریلویز کے لیے چھ ارب روپے کی سبسڈی اور ٹول ٹیکس میں پچیس فیصد اضافے کا فیصلہ واپس لینا شامل ہے۔ حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے اور ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -