-Advertisement-

ارومچی مذاکرات: پاکستان کے افغان طالبان کے سامنے تین اہم مطالبات پیش

تازہ ترین

وزارت اطلاعات کا افغان ترجمان کے بے بنیاد دعووں کو مسترد کرنے کا اعلان

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے آپریشن غضب الحق...
-Advertisement-

چین کی ثالثی میں ارمچی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے اپنے تین بنیادی مطالبات رکھ دیے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کو ختم کرنے کے لیے پانچ نکاتی فارمولے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

اسلام آباد نے مطالبہ کیا ہے کہ کابل حکومت تحریک طالبان پاکستان کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے، اس کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر ختم کرے اور ان اقدامات کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کرے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان نے مذاکرات میں اپنا موقف سخت رکھا ہے۔

دفتر خارجہ نے ارمچی میں جاری مذاکرات کی تصدیق تو کی ہے تاہم ایجنڈے اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے گزشتہ بریفنگ میں واضح کیا کہ ان مذاکرات کا مطلب پاکستان کی پالیسی یا جاری آپریشن غضب الحق میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہے۔

ادھر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اتوار کے روز مذاکرات کے جاری رہنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

چین ان مذاکرات میں خاموش لیکن فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان یو شیاؤ یونگ گزشتہ کچھ ماہ سے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سفارت کاری میں مصروف ہیں تاکہ خلیج کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار صرف انسداد دہشت گردی اور سرحدی سیکیورٹی تک محدود رہے گا۔ اسلام آباد کا مرکزی مطالبہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے موثر میکانزم کا قیام ہے۔

مذاکرات کے لیے زیر غور مجوزہ روڈ میپ میں سیز فائر، انسداد دہشت گردی کی ضمانتیں، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ اور ادارہ جاتی مذاکراتی نظام قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ارمچی میں جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ سید علی اسد گیلانی کر رہے ہیں، جن کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام بھی موجود ہیں۔ افغان طالبان کے وفد کی سربراہی امیر خان متقی کے چیف آف اسٹاف محب اللہ واسق کر رہے ہیں، جس میں وزارت خارجہ، داخلہ، دفاع اور انٹیلی جنس کے نمائندے شامل ہیں۔

فی الحال چینی حکام دونوں فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ براہ راست اور باقاعدہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ارمچی کا انتخاب اس لیے اہم ہے کیونکہ بیجنگ کو خطے میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ جیسی تنظیموں سے سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں جن کے جنگجوؤں کی موجودگی افغانستان میں سمجھی جاتی ہے۔

سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں استحکام لانے کی ایک محتاط کوشش ہیں، تاہم کسی بھی بڑی پیش رفت کا انحصار کابل کی جانب سے اسلام آباد کے بنیادی سیکیورٹی مطالبات کو تسلیم کرنے پر ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -