سکھر ڈویژن میں مبینہ طور پر منکی پاکس سے سات بچوں کی ہلاکت کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے تمام تینوں اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے پیر کے روز سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں کنٹرول رومز قائم کر دیے ہیں اور عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت اور کمشنر آفس کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر بچوں یا بڑوں میں جسم اور چہرے پر دانے نکلنے، غدود میں سوجن، شدید سر درد اور جسمانی درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر متعلقہ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ ایسی علامات والے مریضوں کو فوری طور پر الگ تھلگ کرنے اور محکمہ صحت کو اطلاع دینے کی تاکید کی گئی ہے۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ منکی پاکس اور خسرہ سے مشابہت رکھنے والی علامات کے حامل افراد سے سماجی دوری اختیار کریں۔ مریضوں کی تیمارداری کرنے والے لواحقین کو حفاظتی تدابیر اپنانے، ماسک اور دستانے پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متاثرہ افراد کے زیر استعمال گھریلو اشیاء کو دوبارہ استعمال میں لانے سے قبل جراثیم سے پاک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
خیرپور کے علاقے تھری میرواہ میں سات نوزائیدہ بچے ان علامات کے ساتھ انتقال کر گئے تھے جو منکی پاکس سے مماثلت رکھتی ہیں۔ سندھ محکمہ صحت نے دو اپریل کو آغا خان یونیورسٹی لیب کو مشتبہ کیسز کے خون کے ٹیسٹ ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے لیے خط لکھا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال ان رپورٹس کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔
