افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک دس ہزار سے زائد افراد اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے ہزاروں مہاجرین لینڈ کوتل میں قائم ہولڈنگ کیمپ میں پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی رجسٹریشن اور واپسی کے دیگر قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم بنیادی سہولیات کے فقدان، عملے کی کمی اور تکنیکی مسائل کے باعث واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے جس پر مہاجرین اور مقامی آبادی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ روز ہونے والی شدید بارشوں نے کیمپ میں موجود افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور کھلے آسمان تلے موجود سینکڑوں خاندان شدید سردی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ مقامی قبائلی روایات کے مطابق لینڈ کوتل کے رہائشیوں نے کئی متاثرہ خاندانوں کو اپنے حجروں میں پناہ دی ہے تاہم اب بھی بڑی تعداد بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
مقامی فلاحی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے کیمپ میں راشن، پانی اور گرم ملبوسات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں نے انسانی ہمدردی کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے مزید منظم امدادی کارروائیوں پر زور دیا ہے۔
رجسٹریشن کے عمل میں تاخیر سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ مہاجرین اور مقامی عمائدین کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن عملے کی تعداد بڑھائی جائے کیونکہ پہلے یہ کام طورخم بارڈر پر بھی ہوتا تھا جس سے بوجھ تقسیم رہتا تھا لیکن اب تمام تر دباؤ لینڈ کوتل کیمپ پر ہے۔ نادرا کی جانب سے دس ونڈوز قائم کی گئی ہیں جن میں سے صرف دو ونڈوز پر مینی فیسٹ کی تیاری اور بائیو میٹرک کا عمل جاری ہے جس سے طویل قطاریں لگ رہی ہیں۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کے ہاتھوں پر مہندی اور مردوں کے ہاتھوں کی کھردری جلد کے باعث بائیو میٹرک تصدیق میں دشواری پیش آ رہی ہے جبکہ انٹرنیٹ کے کمزور سگنلز بھی ڈیٹا کی منتقلی میں رکاوٹ ہیں۔
ادھر طورخم بارڈر فی الحال صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھلا ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں اور عام پیدل آمدورفت مکمل طور پر معطل ہے۔ سرحد کی بندش سے مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دیہاڑی دار طبقے کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مقامی عمائدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر تجارتی سرگرمیاں جلد بحال نہ کی گئیں تو علاقے میں معاشی بحران شدت اختیار کر جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر ان کے بھائی نوید آفریدی نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ہولڈنگ کیمپ کا دورہ کیا۔ نوید آفریدی نے کیمپ میں ستر خیمے اور تین بڑے کمیونل ٹینٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ دورے کے دوران طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ کے قیام کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نادرا سے متعلق شکایات کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور متعلقہ محکموں کو عمل تیز کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔
