-Advertisement-

توانائی اور برآمدات میں استحکام، وزیراعظم شہباز شریف کا پالیسی تسلسل برقرار رکھنے کا عزم

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی پر رضامندی کا اعلان...
-Advertisement-

وزیر اعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں تسلسل، برآمدات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ تیل کی ترسیل میں عالمی رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں بجلی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، جس کی بنیادی وجہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا بڑھتا ہوا حصہ ہے۔

توانائی کے امور پر بریفنگ کے دوران وزیر اعظم نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم منصوبے پر کام کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں بجلی کی فراہمی کو مستحکم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک کی 55 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے جبکہ 45 فیصد کا انحصار فوسل فیولز پر ہے۔ حکومت آئندہ ایک دہائی میں قابل تجدید توانائی کا تناسب 90 فیصد تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

برآمدات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی کشیدگی کے باوجود خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کا تسلسل مؤثر سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو ہدایت کی کہ سمندری راستوں سے برآمدات بڑھانے کے لیے اضافی بحری جہازوں کا انتظام کیا جائے، کیونکہ خلیجی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک اور اجلاس میں وزیر اعظم نے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، روزگار اور فنی تربیت حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔ چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے وزیر اعظم کو مہارتوں کی ترقی اور مواقع پیدا کرنے سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔

علاوہ ازیں، ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے عدالتی نظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نفاذ اور باہمی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عدالتی اصلاحات کے تبادلے سے انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -