-Advertisement-

پاکستان کی ثالثی میں پاک-ایران کشیدگی میں کمی، اسٹاک مارکیٹ میں 12 ہزار پوائنٹس کا زبردست اضافہ

تازہ ترین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کی تصدیق

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران تصدیق کی ہے کہ...
-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد اضافے کے بعد مارکیٹ کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ یہ پیش رفت پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر امن کی بحالی کی امیدوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کے ایس ای 30 انڈیکس میں گزشتہ کاروباری دن کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ضوابط کے تحت تمام ایکویٹی مارکیٹس کو معطل کر دیا گیا۔ اس دوران سسٹم نے تمام زیر التوا آرڈرز کو خودکار طریقے سے منسوخ کر دیا تاکہ مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے لیے نئے سرے سے عمل شروع کیا جا سکے۔

صبح 10 بج کر 42 منٹ پر جب ٹریڈنگ کا دوبارہ آغاز ہوا تو تیزی کا رجحان مزید شدت اختیار کر گیا۔ انڈیکس 13 ہزار 300 پوائنٹس اضافے کے بعد 1 لاکھ 64 ہزار 973 کی سطح پر پہنچ گیا جو کہ 8 اعشاریہ 77 فیصد کے قریب بنتا ہے۔ اس سے قبل صبح 9 بج کر 57 منٹ پر انڈیکس 1 لاکھ 64 ہزار 35 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے ایکویٹی ٹریڈر احمد شیراز نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کروائی گئی جنگ بندی اور 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 15 سے 16 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری، چین کا کردار اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے تعاون کے اعلانات کے ساتھ ساتھ 1 ارب 43 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی جیسے عوامل نے ملکی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کا مستقبل اب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتائج پر منحصر ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی میں کمی کا عمل جاری رہتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں استحکام رہے گا جس سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔ خبر لکھے جانے تک مارکیٹ میں خریداروں کا جوش و خروش برقرار تھا اور ٹریڈنگ کا عمل جاری رہا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -