لاہور کینال کے ساتھ مجوزہ الیکٹرک ٹرام منصوبہ تاحال تاخیر کا شکار ہے جس کے باعث اس جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ حکومت نے رواں برس اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ابتدائی ٹرائل رن بھی مکمل کیا گیا تھا، تاہم تکنیکی مشکلات اور ماحولیاتی تحفظ کے خدشات نے اس کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔
لاہور بچاؤ کمیٹی سمیت مختلف ماحولیاتی تنظیموں نے منصوبے کے خلاف عدالت جانے کا عندیہ دیا ہے۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ ٹرام ٹریک بچھانے کے لیے کینال کے کنارے لگے قدیم اور گھنے درختوں کی کٹائی شہر کے قدرتی حسن اور ماحولیات کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ترقیاتی کاموں کے لیے متبادل راستے تلاش کرے۔
شہریوں کی جانب سے اس منصوبے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جوہر ٹاؤن کے رہائشی عامر محمود کا کہنا ہے کہ لاہور میں بسوں کی شدید کمی کے باعث یہ منصوبہ شہریوں کے لیے ایک بہترین سہولت ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ کاشف طارق نامی شہری نے افسوس کا اظہار کیا کہ ابتدائی آزمائش کے بعد تاحال عملی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر اربوں روپے لاگت آئے گی جس میں ٹریک کی تعمیر، اسٹیشنز کا قیام اور چین یا یورپی ممالک سے الیکٹرک ٹرام کی درآمد شامل ہے۔ تاہم مالی وسائل کی کمی اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں بسوں کی 1500 کے قریب کمی ہے، اس لیے جدید ٹرانسپورٹ سسٹم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا بلکہ اس کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ حکام کے مطابق درختوں کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے متبادل شجرکاری پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت 27 کلومیٹر طویل روٹ پر ٹرام چلائی جائے گی جس میں ایک وقت میں 300 سے زائد مسافر سفر کر سکیں گے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ منظوری کے بعد اس منصوبے کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سول سوسائٹی کے سربراہ عبداللہ ملک کا اصرار ہے کہ ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کر کے شروع کیا گیا کوئی بھی منصوبہ عوامی مفاد میں نہیں ہوگا۔
