-Advertisement-

سینیٹ کمیٹی نے حکومت کے تین اہم بلز کی منظوری دے دی

تازہ ترین

جنگ بندی ہمیشہ پیچیدہ ہوتی ہے، لبنان کو معاہدے میں شامل کرنے کا وعدہ نہیں کیا: جے ڈی وینس

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے...
-Advertisement-

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سیاحت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے متعلق اہم قانون سازی پر غور کیا گیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

کمیٹی نے 16 جنوری 2026 کو ایوان سے موصول ہونے والے تین سرکاری بلز کی منظوری دے دی۔ ان میں پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ترمیمی بل 2026، ٹریول ایجنسیز ترمیمی بل 2026 اور پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ترمیمی بل 2026 شامل ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گورننس کو بہتر کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے قانون سازی کی نوعیت اور دائرہ کار پر سوالات اٹھائے۔ شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ مجوزہ ترامیم کا اطلاق صرف وفاقی حدود تک محدود ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مصطفیٰ امپیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بلوں میں حکومت پاکستان کے بجائے متعلقہ حکام کا ذکر شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے ان ترامیم میں سزاؤں اور جرمانے کی شرح میں اضافے پر بھی غور کیا۔ چیئرمین نے زور دیا کہ جرمانے بڑھانے کا مقصد شعبے میں قوانین کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔

اجلاس میں سیاحت کے شعبے میں ملک بھر میں یکساں پالیسی اپنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بغیر وفاقی سطح پر جرمانے بڑھائے گئے تو ٹور آپریٹرز اور گائیڈز نرم قوانین والے صوبوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام صوبوں کے سیکرٹریز کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا تاکہ سیاحت سے متعلق قانون سازی میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور اتفاق رائے سے قومی سطح پر یکساں پالیسی وضع کی جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -