میرپور خاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اکیس سالہ طالبہ نے اپنے گھر میں پستول سے خود کو گولی ماری۔ لواحقین نے ابن سینا یونیورسٹی کے استاد اور ساتھی طلبا پر ہراسانی اور بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ فہمیدہ کے والد انتظار لغاری اور دیگر اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کی جانب سے ہراسانی کی شکایات کو انتظامیہ نے نظر انداز کیا جس کے باعث اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔
ڈی آئی جی میرپور خاص کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ایس ایس پی سید فدا حسین شاہ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں ایس پی ہیڈ کوارٹرز میر آفتاب حسین تالپور اور اے ایس پی قرۃ العین شامل ہیں۔ کمیٹی دس روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور ان عوامل کا تعین کرے گی جن کی وجہ سے طالبہ نے خودکشی کی۔
یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر سید رضی محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پرنسپل کو طالبہ کی جانب سے زبانی شکایت موصول ہوئی تھی تاہم تحریری شکایت نہ ملنے پر کارروائی نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ لیکچرار عابد لغاری اور طالب علم عبداللہ کے خلاف شکایات ان کے دفتر تک نہیں پہنچائی گئیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر شمس العارفین خان نے مذکورہ استاد کو معطل کر دیا ہے۔
سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے سوگوار خاندان سے رابطہ کر کے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی میرپور خاص کو ہدایت کی ہے کہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شاہینہ شیر علی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ کے افسران کو متاثرہ خاندان کی معاونت کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب فہمیدہ لغاری کے والدین نے وکیلوں کے ہمراہ سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہو سکا تھا۔
