-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ: اراضی کی منتقلی کے خلاف تاخیر سے دائر درخواست مسترد

تازہ ترین

امریکا: ایرانی حکومت کی حامی پروپیگنڈسٹ ‘اسکریمینگ میری’ کے اہل خانہ حراست میں، ملک بدری کا امکان

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی حامی مریم طہماسبی اور ان...
-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ نے اراضی کی منتقلی کے خلاف دائر کردہ درخواست کو بلا جواز تاخیر اور میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بروقت رجوع کرنا ضروری ہے اور غفلت برتنے والوں کو غیر معمولی ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے پٹھانی مائی نامی شہری کی جانب سے دائر درخواست پر سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر قانون کے بنیادی مقصد کو ختم کر دیتی ہے، لہذا بلا جواز تاخیر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق درخواست گزار نے اراضی کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اٹھارہ ماہ کی طویل تاخیر کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کی کیا وجوہات تھیں۔

درخواست گزار کی جانب سے تاخیر کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ اپنی طویل خاموشی کا کوئی ٹھوس جواز پیش کر سکیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست دائر کرنے میں حد سے زیادہ تاخیر ہوئی اور یہ کیس قانونی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ ان وجوہات کی بنا پر فاضل عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -