پاکستان کے معروف پاپ گلوکار حسن جہانگیر کا مقبول ترین گیت ہوا ہوا ایک بار پھر بالی وڈ میں گونجنے کے لیے تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فلم دھورندر کے میکرز نے اداکار سنجے دت کی انٹری کے لیے اس گانے کے حقوق باضابطہ طور پر حاصل کر لیے ہیں جس کے عوض انہیں پچاس ہزار ڈالر کی خطیر رقم ادا کی گئی ہے۔ حسن جہانگیر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس بار گانے کے استعمال کے لیے ان سے باقاعدہ اجازت لی گئی ہے۔
حسن جہانگیر کا کہنا ہے کہ ہوا ہوا محض ایک گیت نہیں بلکہ ایک ایسی میراث ہے جس نے سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی کی دہائی کے اواخر میں ریلیز ہونے والا یہ گیت ایک ثقافتی رجحان بن گیا تھا تاہم اس کی کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا۔ گلوکار نے یاد دلایا کہ ان کا پہلا گیت بری طرح ناکام ہوا تھا اور لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا لیکن انہیں اپنی صلاحیت پر پورا یقین تھا کہ جب یہ گانا مقبول ہوگا تو پوری دنیا میں دھوم مچا دے گا۔
عید کے موقع پر ریلیز ہونے کے بعد چند ہی ہفتوں میں یہ گیت دنیا بھر میں سنا جانے لگا۔ اب تک یہ گیت سترہ سے زائد فلموں میں استعمال ہو چکا ہے جن میں بلو بادشاہ، آگ کا گولہ، انصاف اپنے لہو سے، چالیس چوراسی اور مبارکاں جیسی فلمیں شامل ہیں۔
بھارت میں ایک پرفارمنس کے دوران گوالیار میں انہیں عظیم کلاسیکی موسیقار تان سین کے مزار کے قریب تان سین آف دی ایرا کا خطاب دیا گیا جس پر حسن جہانگیر نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان عظیم فنکاروں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔
اپنے گانے پر سرقہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حسن جہانگیر نے وضاحت کی کہ یہ دھن ان کی دادی کی طرف سے ورثے میں ملی ہے جن کا تعلق ایران کے شہر اصفہان سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک لوک دھن ہے جسے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف نقل کرنے سے کوئی گیت مقبول نہیں ہوتا بلکہ اس میں فنکار کی اپنی پہچان کا ہونا ضروری ہے۔
سابقہ ادوار میں کاپی رائٹ قوانین کی عدم موجودگی کے باعث ان کے گیتوں کو بغیر اجازت استعمال کیا گیا تاہم اب بھارتی فلم سازوں کی جانب سے اجازت لینے کے عمل کو وہ باہمی احترام قرار دیتے ہیں۔ حسن جہانگیر کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود فنکار محبت اور دوستی کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ تعلق مزید مضبوط ہونا چاہیے۔
فی الحال حسن جہانگیر نئے پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں اور نوجوان فنکاروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آج جتنا کام کر رہے ہیں شاید زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا۔ ایک ایسا گیت جسے کبھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا آج موسیقی کی دنیا میں ایک ایسی علامت بن چکا ہے جو وقت اور جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو کر زندہ ہے۔
