-Advertisement-

سندھ کے سب سے بڑے بچوں کے ہسپتال میں عملے کی شدید قلت، 800 آسامیاں خالی

تازہ ترین

بہاماس میں لاپتہ ہونے والی اہلیہ کے مقام سے متعلق برائن ہکر کے نقشے منظر عام پر

بہاماس میں اپنی اہلیہ لینیٹ ہکر کی پراسرار گمشدگی کے معاملے میں برائن ہکر کی جانب سے فراہم کردہ...
-Advertisement-

سندھ کے سب سے بڑے بچوں کے ہسپتال نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں عملے کی شدید قلت کے باعث طبی سہولیات کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہسپتال میں آٹھ سو اسامیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال کی گنجائش پانچ سو بستروں کی ہے تاہم یہاں دو ہزار سے زائد بچے زیر علاج رہتے ہیں جس کے باعث ایک بستر پر تین سے چار بچوں کو لٹایا جا رہا ہے۔

ہسپتال میں سرجری کے لیے مریضوں کو تین سے چھ ماہ طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں اکثر خراب رہتی ہیں۔ ہسپتال میں مریض بچوں کو اوپر کی منزلوں پر منتقل کرنے والی لفٹ بھی اکثر بند رہتی ہے۔ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ پانچ سے سات سو جبکہ ایمرجنسی میں تین سو کے قریب بچے لائے جاتے ہیں۔

متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ مہنگے نجی ہسپتالوں کے اخراجات ان کی پہنچ سے باہر ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتال میں طویل انتظار اور ادویات کی عدم دستیابی ان کے دکھوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ ٹھٹھہ سے آئے ایک شہری نے بتایا کہ ان کے چار سالہ بیٹے کی سرجری کے لیے ایم آر آئی ضروری تھا لیکن مشین ہفتوں خراب رہی، بعد ازاں سرجری کی تاریخ بھی تین ماہ بعد دی گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال میں منظور شدہ بارہ سو اسامیوں میں سے صرف چار سو پر بھرتیاں موجود ہیں اور دو ہزار گیارہ سے دو ہزار چھبیس تک مستقل بنیادوں پر کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹروں کی نواسی اسامیوں میں سے چونسٹھ، نرسنگ کی دو سو میں سے اسی اور پیرا میڈیکل کی چار سو دس میں سے ڈھائی سو اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں کے باعث بھرتیوں کا عمل برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔

ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز کالیری کے مطابق نرسنگ اسٹاف کی شدید کمی کے باعث دن کے اوقات میں چار نرسیں ساٹھ بچوں کی دیکھ بھال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو فوری طور پر ساڑھے چار سو نرسوں کی ضرورت ہے۔ ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو ہزار چوبیس میں منظور شدہ درجنوں کنسلٹنٹ اور ماہرین کی اسامیاں فنڈز کی دستیابی کے باوجود خالی پڑی ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی ایچ پروفیسر ڈاکٹر ناصر سلیم سڈل نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سو اسامیاں خالی ہیں اور انتظامیہ کو کام چلانے کے لیے نجی تنظیموں کے ایک سو پچاس کارکنوں کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث کنٹریکٹ پر بھرتیاں بھی تاحال ممکن نہیں ہو سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -