نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے پیر کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں اسلام آباد مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ چینی سفیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا۔ دونوں ممالک نے پاکستان اور چین کے درمیان ہمہ جہتی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایک الگ پیش رفت میں نائب وزیراعظم نے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور وزارت خارجہ کے دیگر افسران کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران وزارت خارجہ کی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی سہولت کاری خطے میں امن و استحکام اور تعمیری روابط کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
واضح رہے کہ چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے تھے۔ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر تو نہ پہنچ سکے تاہم اسحاق ڈار نے فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں شاندار میزبان قرار دیا۔ جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ مذاکرات میں کسی بھی کوتاہی کا تعلق پاکستانی کوششوں سے نہیں تھا، جنہوں نے دونوں فریقین کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں غیر معمولی شخصیات قرار دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کی کاوشوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔
