-Advertisement-

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو خالی کرانے کے لیے کارروائی شروع

تازہ ترین

صدر آصف علی زرداری کا دورہ چین مکمل، اہم معاہدوں اور تزویراتی تعاون پر اتفاق

صدر مملکت آصف علی زرداری چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے کی تکمیل کے بعد وطن واپس روانہ ہو...
-Advertisement-

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر واقع کثیر المنزلہ رہائشی عمارت ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آدھی رات تک اپنی رہائش گاہیں خالی کر دیں۔ پولیس کی بھاری نفری عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر تعینات کر دی گئی ہے جبکہ کئی رہائشی اپنا سامان منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ایک روز قبل سنائے گئے مختصر فیصلے کے بعد عمل میں آئی۔ عدالت نے لیز کی منسوخی کے خلاف دائر کردہ بی این پی کمپنی کی درخواست مسترد کر دی اور اپارٹمنٹ مالکان کی جانب سے دائر کی گئی متعلقہ درخواستیں بھی نمٹا دی ہیں۔

متاثرہ رہائشیوں کا موقف ہے کہ انہوں نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے بلڈنگ پلان کی منظوری اور این او سی کے اجرا کے بعد یہاں اپارٹمنٹس خریدے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ سی ڈی اے اور ڈویلپر کے مابین ہے، لہذا اسے فریقین کے درمیان ہی حل کیا جانا چاہیے۔

اس منصوبے کا آغاز 9 مارچ 2005 کو ہوا تھا جب بی این پی گروپ نے 13.5 ایکڑ اراضی 4.88 ارب روپے میں نیلامی کے ذریعے حاصل کی تھی۔ ابتدائی طور پر 80 کروڑ روپے کی ادائیگی کے بعد قبضہ حوالے کیا گیا، تاہم کمپنی اب تک صرف ایک ارب 2 کروڑ روپے ادا کر سکی ہے جبکہ 3.85 ارب روپے کی بقیہ رقم 2026 تک اقساط میں وصول کی جانی تھی۔

سی ڈی اے کا موقف ہے کہ 21 برس گزرنے کے باوجود بی این پی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2019 میں ڈویلپر کو 17.5 ارب روپے آٹھ سال میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم سی ڈی اے کے مطابق اس کل رقم کا صرف 16.6 فیصد یعنی 2 ارب 90 کروڑ روپے ہی ادا کیے جا سکے ہیں۔

اس رہائشی کمپلیکس میں کئی اہم شخصیات کے اپارٹمنٹس بھی شامل ہیں۔ ان شخصیات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، چوہدری اعتزاز احسن، شاندانہ گلزار اورنگزیب، سابق وزیر برجیس طاہر، سابق نگران وزیراعظم ناصر الملک اور کشمالہ طارق سمیت دیگر شامل ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -