محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہیٹ ویو جیسی صورتحال برقرار رہنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اتوار کے روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 52 فیصد رہا جس کے باعث گرمی کا احساس 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دن کے گرم ترین اوقات میں ہیٹ انڈیکس اصل درجہ حرارت سے 4 سے 5 ڈگری زیادہ رہا۔ اس کی بنیادی وجہ شمالی سمت سے چلنے والی گرم اور خشک ہوائیں ہیں، جس کے باعث سمندری ہوائیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔ پیر کے روز بھی موسم غیر معمولی طور پر گرم رہنے کا امکان ہے اور درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں کے اعداد و شمار کے مطابق گلستان جوہر میں درجہ حرارت سب سے زیادہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جناح ٹرمینل پر 41.4، ماری پور میں 40 جبکہ شاہراہ فیصل پر درجہ حرارت 39.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی کا سرکاری درجہ حرارت معمول سے 4.9 ڈگری زیادہ رہا، جبکہ مئی کا اوسط درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔
صوبہ سندھ کے دیگر اضلاع بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ جیکب آباد 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ صوبے کا گرم ترین مقام رہا، جو معمول سے تقریباً 4 ڈگری زیادہ ہے۔ شہید بینظیر آباد میں 45.5 اور حیدرآباد میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ بالائی سندھ کے علاقوں لاڑکانہ اور موئن جو دڑو میں درجہ حرارت بالترتیب 43 اور 44.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جبکہ سکھر اور روہڑی میں یہ 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ پر رہا۔
وسطی اضلاع میں دادو اور پڈعیدن میں پارہ 44.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، خیرپور میں 44، میرپور خاص میں 43 اور ٹھٹھہ میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین موسمیات نے اس صورتحال کی وجہ خطے میں بلند فضائی دباؤ کا نظام قرار دیا ہے جس نے سمندری ہواؤں کا راستہ روکے رکھا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ دن کے اوقات میں براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال یقینی بنائیں۔ حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کا یہ سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے اور صوبے کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔
