-Advertisement-

کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی منتظمین اور سماجی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا

تازہ ترین

ایمسٹرڈیم: گوشت اور فوسل فیولز کے اشتہارات پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا دارالحکومت

ایمسٹرڈیم دنیا کا پہلا دارالحکومت بن گیا ہے جہاں عوامی مقامات پر گوشت اور فاسل فیولز سے متعلق اشتہارات...
-Advertisement-

کراچی پریس کلب کے باہر منگل کے روز خواتین کے عالمی دن سے متعلق سرگرمیوں کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کے دوران معروف سماجی کارکن اور پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ شیما کرمانی سمیت دیگر خواتین اور خواجہ سرا برادری کے نمائندے کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے باہر امن و امان کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ جیسے ہی عورت مارچ اور عورت فاؤنڈیشن سے وابستہ خواتین پریس کانفرنس کے لیے پہنچیں، لیڈیز پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد شرکاء کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا۔

عینی شاہدین اور کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے شیما کرمانی کو ان کی گاڑی سے زبردستی اتارا اور تقریباً 15 دیگر افراد کے ہمراہ آرٹلری میدان تھانے منتقل کر دیا۔ تاہم بعد ازاں سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام کی مداخلت پر تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے فوری بعد کارکنوں نے پریس کلب پہنچ کر اپنی میڈیا بریفنگ جاری رکھی۔

شیما کرمانی نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عورت فاؤنڈیشن نے مدرز ڈے کے موقع پر 10 مئی کو سی ویو پر عورت مارچ کا منصوبہ بنایا تھا، جس کے لیے تین ہفتے قبل متعلقہ حکام کو این او سی کی درخواست دی گئی تھی لیکن تاحال اجازت نہیں ملی۔

انہوں نے سندھ حکومت اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کی دعویدار جماعت کے دور میں خواتین کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک افسوسناک اور غیر معمولی ہے۔ شیما کرمانی نے سوال اٹھایا کہ پرامن احتجاج کو روکنے کا جواز کیا تھا جبکہ انہیں کسی بھی قسم کی قانونی رکاوٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی تاریخ کو سی ویو پر کوئی تقریب منعقد کرنا چاہتی تھی تو انہیں بات چیت کے ذریعے آگاہ کیا جا سکتا تھا، نہ کہ آٹھ سال سے جاری پرامن اجتماع کو طاقت کے زور پر روکا جاتا۔ شیما کرمانی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے پر متاثرہ خواتین کارکنوں سے معافی مانگی جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -