-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی محدود، سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر فیصلہ

تازہ ترین

بحیرہ ایجیئن میں ڈوبے جہاز سے یونانی پارتھینن کا قدیم نوادرات دریافت

یونانی جزیرے کتھیرا کے ساحل پر ڈوبنے والے ایک قدیم برطانوی بحری جہاز کے ملبے سے سنگ مرمر کا...
-Advertisement-

تجارتی سیٹلائٹ کمپنیاں ایران اور مشرق وسطیٰ کے حساس علاقوں کی تصاویر تک رسائی کو محدود کر رہی ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی جوابی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

سیٹلائٹ امیجری فراہم کرنے والی بڑی کمپنی پلینیٹ لیبز نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران، خلیج فارس، امریکی اتحادی اڈوں اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی نئی تصاویر کی فراہمی میں چودہ دن کی تاخیر کرے گی۔ نو مارچ کو اپنے صارفین کو بھیجے گئے نوٹس میں کمپنی کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات موجود ہیں۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ یہ احتیاطی تدابیر اس لیے اختیار کی گئی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سیٹلائٹ تصاویر کو مخالف قوتیں امریکی، نیٹو اور اتحادی اہلکاروں یا شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ یہ تصاویر طویل عرصے سے صحافیوں اور محققین کے لیے تنازعات کی کوریج اور حقائق کی تصدیق کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔

اسی طرح ایک اور بڑی کمپنی وینٹور، جسے پہلے میکسار کے نام سے جانا جاتا تھا، نے بھی مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں کی تصاویر تک رسائی پر کنٹرول سخت کر دیے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق ان علاقوں کی تصاویر کے حصول پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جہاں امریکی اور نیٹو افواج موجود ہیں یا جو مخالفین کے حملوں کی زد میں ہیں۔

اگرچہ دونوں کمپنیوں کے امریکی حکومت کے ساتھ معاہدے موجود ہیں، تاہم وینٹور نے واضح کیا ہے کہ ان کی جانب سے کیے گئے فیصلے کسی سرکاری حکم کے تابع نہیں ہیں۔ پلینیٹ لیبز نے بھی کہا ہے کہ وہ ماہرین سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے اور حالات معمول پر آتے ہی معمول کی خدمات بحال کر دی جائیں گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -